Thursday, October 29, 2009

Ghazal

غزل
رسواۓ جہاں تھے مگر ایسے تو نہیں تھے
بربادی گلشن کا سبب ہم تو نہیں تھے
وہ برق کی تیزی ہو کہ شعلے کی لپک ہو
انجام کو پہونچے تو سبھی خاک نشیں تھے
جن کے لئے میں منزل مقصود سے لوٹا
جوں گھوم کے دیکھا تو جہاں تھے وہ وہیں تھے
تم پوچھتے کیا ہو کہ نشیمن کہ ہوا کیا
جس جس نے مٹایا وہ اسی گھر کے مکین تھے
جن خوابوں کی تعبیر میں یہ عمر گنوائی
اب جا کے یہ سمجھا کہ وہ سب خواب حسین تھے
احمد عرفان

No comments:

Post a Comment