غزل
رسواۓ جہاں تھے مگر ایسے تو نہیں تھے
بربادی گلشن کا سبب ہم تو نہیں تھے
وہ برق کی تیزی ہو کہ شعلے کی لپک ہو
انجام کو پہونچے تو سبھی خاک نشیں تھے
جن کے لئے میں منزل مقصود سے لوٹا
جوں گھوم کے دیکھا تو جہاں تھے وہ وہیں تھے
تم پوچھتے کیا ہو کہ نشیمن کہ ہوا کیا
جس جس نے مٹایا وہ اسی گھر کے مکین تھے
جن خوابوں کی تعبیر میں یہ عمر گنوائی
اب جا کے یہ سمجھا کہ وہ سب خواب حسین تھے
احمد عرفان
رسواۓ جہاں تھے مگر ایسے تو نہیں تھے
بربادی گلشن کا سبب ہم تو نہیں تھے
وہ برق کی تیزی ہو کہ شعلے کی لپک ہو
انجام کو پہونچے تو سبھی خاک نشیں تھے
جن کے لئے میں منزل مقصود سے لوٹا
جوں گھوم کے دیکھا تو جہاں تھے وہ وہیں تھے
تم پوچھتے کیا ہو کہ نشیمن کہ ہوا کیا
جس جس نے مٹایا وہ اسی گھر کے مکین تھے
جن خوابوں کی تعبیر میں یہ عمر گنوائی
اب جا کے یہ سمجھا کہ وہ سب خواب حسین تھے
احمد عرفان
No comments:
Post a Comment