Showing posts with label Ghazal. Show all posts
Showing posts with label Ghazal. Show all posts

Saturday, November 7, 2009

غزل

غزل
فرقت کا رنج تھا نہ غموں کا ملال تھا
تھا بھی جو نزع میں تو تمہارا خیال تھا
آتی تھی مثل آپ کے مجھ کو بھی دشمنی
دل دے چکا تھا میں مجھے اسکا خیال تھا
سو فطرتوں سے دل کو ہمارے جو لے گیا
وہ کس کا تھا فریب وہ کس کا جمال تھا
سمجھا ہوں بعد مرگ محبّت کا ارتباط
جو تھا میرا خیال وہ اسکا خیال تھا
دنیا سے کیا غرض اسے عقبه سے کیا غرض
تیرے فقیر شہر کا تجھ سے سوال تھا
بس بس قسم نہ کھاؤ مجھے اعتبار ہے
ہاں ہاں ضرور آپ کو کو میرا خیال تھا
امید اک بلا تھی میری جان کے لئے
جب تک کہ میں جیا مجھے مرنا محال تھا
آیا ہوں خالی ہاتھ میں اے کردگار حشر
دنیا میں لٹ گیا جو میرے پاس مال تھا
آواز باز گشت کا برسوں رکھا ہے ورد
بیگانہ جواب میرا ہر سوال تھا
ٹکرا کے سر جو رات تیرے در سے مر گیا
شاید کوئی غریب کوئی خستہ حال تھا
میں اور مجھ کو شکوہ تنہائی فراق
اچھا خیال تھا تمہیں اچھا ملال تھا
احمد وہ آ رہا ہے مجھے دیکھنے کوئی
نالہ میں آج کوئی نہ کوئی کمال تھا
احمد عرفان

غزل

غزل
اچھا ہوا نگاہ ستم دل میں رہ گئی
قاتل کی آبرو بھری محفل میں رہ گئی
پلٹی نہ حشر تک کسی دل میں وہ پھر کبھی
میری نگاہ شوق بھی محفل میں رہ گیی
شام شب فراق میں بے موت مر گئے
حسرت ہمارے دل کی جو تھی دل میں رہ گیی
مرنے کی آرزو میں بھی جینا پڑا مجھے
کھنچ کر جو تیغ قبضہ قاتل میں رہ گیی
دنیاۓ غم وسیع تھی احمد مگر وہ آج
اتنی سمٹ گیی کہ میرے دل میں رہ گیی
احمد عرفان

Thursday, October 29, 2009

Ghazal

غزل
رسواۓ جہاں تھے مگر ایسے تو نہیں تھے
بربادی گلشن کا سبب ہم تو نہیں تھے
وہ برق کی تیزی ہو کہ شعلے کی لپک ہو
انجام کو پہونچے تو سبھی خاک نشیں تھے
جن کے لئے میں منزل مقصود سے لوٹا
جوں گھوم کے دیکھا تو جہاں تھے وہ وہیں تھے
تم پوچھتے کیا ہو کہ نشیمن کہ ہوا کیا
جس جس نے مٹایا وہ اسی گھر کے مکین تھے
جن خوابوں کی تعبیر میں یہ عمر گنوائی
اب جا کے یہ سمجھا کہ وہ سب خواب حسین تھے
احمد عرفان