غزل
اچھا ہوا نگاہ ستم دل میں رہ گئی
قاتل کی آبرو بھری محفل میں رہ گئی
پلٹی نہ حشر تک کسی دل میں وہ پھر کبھی
میری نگاہ شوق بھی محفل میں رہ گیی
شام شب فراق میں بے موت مر گئے
حسرت ہمارے دل کی جو تھی دل میں رہ گیی
مرنے کی آرزو میں بھی جینا پڑا مجھے
کھنچ کر جو تیغ قبضہ قاتل میں رہ گیی
دنیاۓ غم وسیع تھی احمد مگر وہ آج
اتنی سمٹ گیی کہ میرے دل میں رہ گیی
احمد عرفان
اچھا ہوا نگاہ ستم دل میں رہ گئی
قاتل کی آبرو بھری محفل میں رہ گئی
پلٹی نہ حشر تک کسی دل میں وہ پھر کبھی
میری نگاہ شوق بھی محفل میں رہ گیی
شام شب فراق میں بے موت مر گئے
حسرت ہمارے دل کی جو تھی دل میں رہ گیی
مرنے کی آرزو میں بھی جینا پڑا مجھے
کھنچ کر جو تیغ قبضہ قاتل میں رہ گیی
دنیاۓ غم وسیع تھی احمد مگر وہ آج
اتنی سمٹ گیی کہ میرے دل میں رہ گیی
احمد عرفان
No comments:
Post a Comment