Saturday, November 7, 2009

غزل

غزل
اچھا ہوا نگاہ ستم دل میں رہ گئی
قاتل کی آبرو بھری محفل میں رہ گئی
پلٹی نہ حشر تک کسی دل میں وہ پھر کبھی
میری نگاہ شوق بھی محفل میں رہ گیی
شام شب فراق میں بے موت مر گئے
حسرت ہمارے دل کی جو تھی دل میں رہ گیی
مرنے کی آرزو میں بھی جینا پڑا مجھے
کھنچ کر جو تیغ قبضہ قاتل میں رہ گیی
دنیاۓ غم وسیع تھی احمد مگر وہ آج
اتنی سمٹ گیی کہ میرے دل میں رہ گیی
احمد عرفان

No comments:

Post a Comment