Sunday, November 15, 2009

غزل

غزل
یہ بیتابی یہ درد حیرت افزا دیکھنے والے
بہت خوش ہیں ہمارے دل کا نقشہ دیکھنے والے
میں کہتا تھا کہ بڑھ جایں گی یہ بیہوشیاں تیری
مگر میرا کہا تونے نہ مانا دیکھنے والے
جو قطرہ ہے لہو کا وہ نکین نام دلبر ہے
ادھرآؤ میرا خوں تمنّا دیکھنے والے
چراغ داغ دل اور اس پہ سو سو رنگ ناکامی
ادھر آَین چراغاں کا تماشا دیکھنے والے
بہت بے درد دیکھے ہیں مگر تم سا نہیں دیکھا
لگا کر آگ جلنے کا تماشا دیکھنے والے
کہاں پھر یہ غم فرقت کہاں پھر درد مجبوری
مجھے بھی دیکھ جا او جاتی دنیا دیکھنے والے
نہ اب مجھ سا زمانے میں گراں خاطر شکستہ دل
نہ تم سا درد دل کا یوں تماشا دیکھنے والے
میری گردن پہ خنجر رکھ کے قاتل نے کہا احمد
کہاں ہیں روز بسمل کہ تماشا دیکھنے والے
احمد عرفان

No comments:

Post a Comment