غزل
یہ بیتابی یہ درد حیرت افزا دیکھنے والے
بہت خوش ہیں ہمارے دل کا نقشہ دیکھنے والے
میں کہتا تھا کہ بڑھ جایں گی یہ بیہوشیاں تیری
مگر میرا کہا تونے نہ مانا دیکھنے والے
جو قطرہ ہے لہو کا وہ نکین نام دلبر ہے
ادھرآؤ میرا خوں تمنّا دیکھنے والے
چراغ داغ دل اور اس پہ سو سو رنگ ناکامی
ادھر آَین چراغاں کا تماشا دیکھنے والے
بہت بے درد دیکھے ہیں مگر تم سا نہیں دیکھا
لگا کر آگ جلنے کا تماشا دیکھنے والے
کہاں پھر یہ غم فرقت کہاں پھر درد مجبوری
مجھے بھی دیکھ جا او جاتی دنیا دیکھنے والے
نہ اب مجھ سا زمانے میں گراں خاطر شکستہ دل
نہ تم سا درد دل کا یوں تماشا دیکھنے والے
میری گردن پہ خنجر رکھ کے قاتل نے کہا احمد
کہاں ہیں روز بسمل کہ تماشا دیکھنے والے
بہت خوش ہیں ہمارے دل کا نقشہ دیکھنے والے
میں کہتا تھا کہ بڑھ جایں گی یہ بیہوشیاں تیری
مگر میرا کہا تونے نہ مانا دیکھنے والے
جو قطرہ ہے لہو کا وہ نکین نام دلبر ہے
ادھرآؤ میرا خوں تمنّا دیکھنے والے
چراغ داغ دل اور اس پہ سو سو رنگ ناکامی
ادھر آَین چراغاں کا تماشا دیکھنے والے
بہت بے درد دیکھے ہیں مگر تم سا نہیں دیکھا
لگا کر آگ جلنے کا تماشا دیکھنے والے
کہاں پھر یہ غم فرقت کہاں پھر درد مجبوری
مجھے بھی دیکھ جا او جاتی دنیا دیکھنے والے
نہ اب مجھ سا زمانے میں گراں خاطر شکستہ دل
نہ تم سا درد دل کا یوں تماشا دیکھنے والے
میری گردن پہ خنجر رکھ کے قاتل نے کہا احمد
کہاں ہیں روز بسمل کہ تماشا دیکھنے والے
احمد عرفان
No comments:
Post a Comment