Thursday, November 12, 2009

سود و زیاں

سود و زیاں

آج یوں رات گئے درد نے کروٹ بَدلی

بعد مدّت کے مسیحائی کی صورت نکلی

ایک اک زخم کُہَن ساغر رنگیں بن کر

ہر رگ جاں سے چھلکتا ہے گلابی کی طرح

دشت تنہائی میں امید کی کرنیں پھوٹیں

ہجر کی رات کٹی وصل کا سورج نکلا

پھر تری کاکل پیچاں سے الجھنے کے لئے

دل وحشی نے بھی کچھ حد سے گزرنا چاہا

تری پیشانی و رخسار و بدن کی خوشبو

بس رہی ہے میری ہر سانس میں لمحہ لمحہ

تری مخمور جوانی کے دل آویز خطوط

میرے آلام کی تسکین کا سامان نہیں

سا عت وصل میں گزرے ہوئے لمحوں ک مہک

صبح فردا کے مسائل کا کوئی حل تو نہیں

کیوں تیرے دست حنائی کے وہ رنگین نقوش

اتنے بے رنگ لگیں گے کبھی سوچا بھی نہ تھا

کتنی سنسان سیاہ راتوں کے لمبے ساۓ

میری شہ رگ کا لہو پیتے رہے جیتے رہے

زندگی , تلخی ایّام سے بوجھل ہو کر

انھیں موہوم سوالوں میں گزاری ہم نے

کتنے بے سود ہیں یہ سود و زیاں کے جھگڑے

زندگی جنکے تعاقب میں گزاری ہم نے

احمد عرفان





No comments:

Post a Comment