Monday, November 2, 2009

غزل

غزل
سب کچھ بکھر چکا ہے کوئی آسرا نہیں
کیسے کہوں کہ مجھ کو کسی سے گلہ نہیں
سایہ بھی گر ہو ساتھ تو پیچھے کبھی نہ چل
اس شہر بے اماں میں کسی سے وفا نہیں
جتنے تھے تیر تیری کمان میں وہ سب چلے
میں کیا کروں کہ پھر بھی تیرا دل بھرا نہیں
میں نے ندامتوں کے بھی دریا بہا دیے
لیکن ہے اس میں پاس مروّت ذرا نہیں
تنکے سمینٹتا رہا میں عمر بھر یونہی
لیکن ذرا سی دیر میں کچھ بھی رہا نہیں
میں نے رفاقتوں میں بھی کچھ فاصلے رکھے
ایسی نزاکتوں کو وہ سمجھا ذرا نہیں
میری تباہیوں پہ ندامت ہے کیوں اسے
میں نے تو اس کا ذکر کسی سے کیا نہیں
وہ شخص جس کا نام ہے عرفان و آگہی
کہنے کو جی رہا ہے مگر وہ مرا نہیں

No comments:

Post a Comment