غزل
سب کچھ بکھر چکا ہے کوئی آسرا نہیں
کیسے کہوں کہ مجھ کو کسی سے گلہ نہیں
سایہ بھی گر ہو ساتھ تو پیچھے کبھی نہ چل
اس شہر بے اماں میں کسی سے وفا نہیں
جتنے تھے تیر تیری کمان میں وہ سب چلے
میں کیا کروں کہ پھر بھی تیرا دل بھرا نہیں
میں نے ندامتوں کے بھی دریا بہا دیے
لیکن ہے اس میں پاس مروّت ذرا نہیں
تنکے سمینٹتا رہا میں عمر بھر یونہی
لیکن ذرا سی دیر میں کچھ بھی رہا نہیں
میں نے رفاقتوں میں بھی کچھ فاصلے رکھے
ایسی نزاکتوں کو وہ سمجھا ذرا نہیں
میری تباہیوں پہ ندامت ہے کیوں اسے
میں نے تو اس کا ذکر کسی سے کیا نہیں
وہ شخص جس کا نام ہے عرفان و آگہی
کہنے کو جی رہا ہے مگر وہ مرا نہیں
کیسے کہوں کہ مجھ کو کسی سے گلہ نہیں
سایہ بھی گر ہو ساتھ تو پیچھے کبھی نہ چل
اس شہر بے اماں میں کسی سے وفا نہیں
جتنے تھے تیر تیری کمان میں وہ سب چلے
میں کیا کروں کہ پھر بھی تیرا دل بھرا نہیں
میں نے ندامتوں کے بھی دریا بہا دیے
لیکن ہے اس میں پاس مروّت ذرا نہیں
تنکے سمینٹتا رہا میں عمر بھر یونہی
لیکن ذرا سی دیر میں کچھ بھی رہا نہیں
میں نے رفاقتوں میں بھی کچھ فاصلے رکھے
ایسی نزاکتوں کو وہ سمجھا ذرا نہیں
میری تباہیوں پہ ندامت ہے کیوں اسے
میں نے تو اس کا ذکر کسی سے کیا نہیں
وہ شخص جس کا نام ہے عرفان و آگہی
کہنے کو جی رہا ہے مگر وہ مرا نہیں
No comments:
Post a Comment