Tuesday, November 10, 2009

aligarh Tera hai ya Mera

علیگڑھ اور علیگڑھ کے مسایل
ہر شاخ چمن ہے شولہ فشاں کیا خاک جہاں پر برسے گا
خود اپنے چمن تک آ نہ سکا غیروں کے چمن پر برسے گا ؟
علیگڑھ مسلم یونیورسٹی جس نے اس سرزمین پر تعلیم حاصل کرنے والے ہر طالب علم کو ایک دوسرے سے لافانی رشتوں میں جوڈ دیا ہے . میں اپنے علیگڑھ کے انھیں سب بھائیوں سے مخاطب ہوں. ہم سب پر سر زمین .علیگڑھ کے کچھ حقوق بھی ہیں چاہے وہ اساتذہ کرام ہوں یا طلبا علیگڑھ اور سابق طلبا .علیگڑھ کے یہ قرض ہم سب کس طرح چکا رہے بڑے شرم کی بات ہے .کیا ہم سب یہ بھول گئے کہ ہم علیگڑھ کے چشم چراغ ہیں اس عظیم درسگاہ کے ہونہار فرزند ہیں.ہونہار وہی کہلاتا ہے جو مادر درسگاہ کے حقوق کو کبھی فراموش نہیں کرتا. کاش کہ موجودہ علیگڑھ کی نظر اپنے ماضی کے ان سرپھرے نوجوانوں کی طرف اٹھے جن کی سرگوشیاں ہندوستان کے طول و عرض میں پھیلی ہوئی مختلف تحریکوں پر اثرانداز ہوئیں. سیاست ہو یا ثقافت ،ادب ہو یا تمدّن ان کی جولانیوں نے پورے برصغیر میں اپنے نقوش کی ایسی چھاپ سبت کی جس کو تاریخ کبھی نہ مٹا سکے گی. ہم نے اس شممع علم کے ان پروانوں کی محفلوں کونہیں دیکھا اور نہ ہی ان فرزانوں کی سرگوشیاں اپنے کانوں سے سنیں. افسوس کہ وہ زمانہ دیکھ نہ سکے پھر بھی یہاں کی دلکش فضاوں میں ان سریلے نغموں کی گونج آج بھی سنائی دیتی ہی. مجاز مرحوم کے ترانے کو سن کر اس عظیم دور کی یادیں تازہ کر لیتے ہیں. سرسید ڈے پر جسے سن کر محض تالیاں بجا کر اس دور رفتگاں میں گم ہو جاتے ہیں.مگر افسوس کہ وہ علیگڑھ اب کہاں جو خواب و خیال کی دنیا ہو کر صرف ہمارے ذہنوں میں بسا ہوا ہے
'زمانہ بدلا، تہذیبیں بدلیں، قدریں بدلیں ' کبھو ان سب کو علیگڑھ نے بدلا لیکن زمانے کی گرم و سرد ہواؤں سے علیگڑھ خود بدل گیا."ثبات ایک تغییر کو ہے زمانے میں "بدلنا ضرور چاہیے لیکن صحت مند قدروں کے ساتھ.لیکن یہاں تو آنوے کا آنوا ہی بگڑ گیا ' نہ وہ دیوانے ہی رہے اور نہ وہ فرزانے . اک ہجوم سرگشتہ ہے. مردم شماری ہو تو بے شمار،مردم شناسی ہو تو قحط لرجاال. کہاں وہ علیگڑھ جس کی ہر روایت دنیا سے نرالے تھی. جسکے اقامتی کردار میں کتنا سکون تھا، کتنا لحاظ تھا. علیگڑھ کے اس اقامتی کردار کی سب سے اہم روایت یہاں کے اساتذہ اور طلبا کے درمیان مضبوط رشتوں کی ہمواری اور شفقت و مرووت. افسوس صد افسوس کہ اب وہ ناپید ہو چکی ہے .
خطاوار کون ہے یہ اپنے اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھنے کی ضرورت ہے. اور اپنے گریبان میں جھانک کر پہلے کسے دیکھنا چاہئے ؟ در اصل ہم نے علیگڑھ یونیورستے کو یاد رکھا اور بانی درسگاہ کے تعلیمی مشن کو بھول گئے. علیگڑھ کا قیام محظ اس لئے نہ ہوا تھا کے کسی بھی تعلیمی ادارے کی طرح یہاں سے بھی ڈگریاں تقسیم کی جاییں. ڈگری ںتقسیم ہونے کا کام تو جاری ہے لیکن کردارسازی نہ اساتذہ میں باقی ہے اور نہ ہی طلبا میں . لیکن اس کی ذمّہ داری کس پر آید ھوتی ہے ؟ اگر کردار سازی کرنے والوں کا خود کوئی کردار نہ رہے تو وہ کردار سازی کیا کریں گے اور کس کی کریں گے.
بڑے افسوس کی بات ہے کہ پچھلی چند دھائیوں میں مجموعے اعتبار سے علیگڑھ کے اساتذہ اور ایکزکیٹو کونسل کا رول بہت ہی مایوس کن رہا ہے.اپنا دامن جھاڑتے ہوئے ہر بے ضابطگی کی ذمّہ داری طلبا کے سر منڈھ دی جاتی ہے. سارے سبق طلبا کو سکھاے جاتے ہیں. اپنے گریبان میں نہ اساتذہ کرام اور نہ ہی کونسل کے ممبران جھانک کر دیکھتے ہیں. علیگڑھ میں کنبہ پروری کی بنیاد کس نے ڈالی؟ اساتذہ اور کونسل کے ممبران کی گروہ بندیوں نے طلبا کو گروہوں میں بانٹ کراپنے اپنے سیاسی اور زاتی مقاصد کے حصول کے لئے استمعال کرنا شروع کیا. کنبہ پروری کے پروردہ لوگوں نے اپنے بیٹوں،دامادوں،بھانجے بھتیجوں کو نا اہل ہوتے ہوئے بھی ریڈر اورپروفیسر بنا دیا. اگر ایمانداری سے دیکھا جائے تو علیگڑھ کی ہرفیکلٹی میں ایسے استادوں کی کمی نہیں. یہی کہانی نان ٹیچنگ اسٹاف کی بھی ہے. میں ہرگز یہ گستاخئ نہیں کر سکتا کہ کے یہ دعوه کروں کے سب کے سب ایسے ہیں، جو بے چارے ایسے نہیں وہ حاشیے پر چلے گئے ہیں.ان کی بات سننے والا کوئی نہیں.
آج علیگڑھ میں جو کچھ بھی ہو رہا ہے یہ تو ہونا ہی تھا. یہ کوئی انہونیں بات نہیں. اور اگر یہے حالات رہے تو خدا نہ کرے اس سے بھی بد تر حالات کا سامنا کرنا پڑے گا. علیگڑھ کے خیر خواہوں کی کمی نہیں، یہ سلسلہ پچھلی ایک صدی سے چل رہا ہے اور انشا الله یوں ہی چلتا رہے گا.لیکن علیگڑھ فورم کی پوسٹنگ میں مستقل یک طرفہ بیانات آ رہے ہیں. زمینیں حقایق کو نہ سمجھتے ہوئے اس طرح کے بیانات حالات کو اور زیادہ خراب کر رہے ہیں. جس سے طلبا میں غیر اعتمادی پیدہ ہو رہی ہے. میں علیگڑھ کے تمام ساتھیوں سے گزارش کر رہا ہوں کہ ہم سب متحد ہو اس بات کی کوشش کریں کہ یونیورستنے جلد سے جلد کھلے تا کہ تعلیمی سلسلہ شروع ہو.
جنتر منتر دہلی میں دھرنے پر موجود طلبا سے ہم لوگوں نے ملاقات کی. ہمارے ساتھ جناب حسن کمال جو علیگڑھ المنائی امیرکہ کے بانیوں میں ہیں شریک تھے.ہم لوگوں نے اپنے نوعمر ساتھیوں کی تمام باتوں کو بغور سنا اور بات چیت کی.اس میں کوئی شک نہیں کے بہت سے مسایل ایسے ہیں جن پر فوری طور پر توجوہ دینے کی اشد ضرورت ہے. طلبا سے گفت و شنید کا سلسلہ بند کرنے سے مسلے ہرگز ھل نہیں ہو سکتے اور نہ ہی کچھ طلبا کو یونیورستے سے خارج کرنے سے کچھ حاصل ہوگا.ضرورت اس بات کی ہے کہ درسگاہ کے مسایل میں طلبا کو بھی برابر کا شریک کرنا چاہئے. سسٹم میں ٹرانس پیریسی ہو. یونیورسٹی کے وہ زممہ داران جن میں محترم وایس چانسلر صاھب بھی شامل ہیں جنہیں میں نے خود دہلی میں لابینگ کرتے ہوئے دیکھا ہے، اگر یہ کام علیگڑھ کے ایک سچے خیر خواہ ہونے کے ناطہ وہ طلبا علیگڑھ کے بیچ کریں تو مجھے پورا یقین ہے کے حالات ضرور بدلیں گے
وہ دشت کہاں وہ بزم کہاں وہ سوز کہاں وہ ساز کہاں
اس خلد بریں کے قصوں کو دہراؤ نہ اب تم یار یہاں
عرفان احمد
سابق آنریری سکرٹری
اولڈ بوایز ایسوسی ایشن.لکھنو

No comments:

Post a Comment