Sunday, November 1, 2009

میں نہ بدلوں گ

میں نہ بدلوں گا
علامہ اقبال نے کیا خوب کہا ہے " ثَبآت ایک تغییر کو ہے زمانےمیں "- علامہ کے اس قول سے میں پوری طرح متفق ہوں- لیکن میں نے
قسم کھائی ہے کہ میں نہ بدلوں گا - زمانے نے کیسی کیسی کروٹیں بدلیں - کیسے کیسے انقلاب برپا ہوئے اور ہو رہے ہیں - سورج سوا نیزے پر آ گیا - میرے دل میں انسانیت کا درد ہے - مجھے ہُنگآمے جنگ و جدل سے کیف ملتا ہے - خوں ریزی کے افسانوں سے بھی رغبت ہے - میرا محبوب نغمہ آہنگ بغاوت ہے - بغاوتوں کا امام ہوں - میں نے رواج کے اصنام کو توڑا ہے - میں نے غلامی کی زنجیروں کو توڑا اور آزاد ہوا لیکن پھر اپنوں ہی نے مجھے محکوم بنا لیا - اگر خوش قسمتی سے اس محکومیت سے نجات ملی تو دوسروں کی اقتصادی محکومی تلے دب گیا - غرض کہ قصّے آدم کو رنگیں کر گیا اپنا لہو میرے لئے زندگی مہنگی اور موت سستی ہے - بارود سے بوجھل فضاؤں میں جی رہا ہوں - تنگ نظری سے میرا دامن تار تار ہے - فرسودہ خیالی اب میری میراس بن چکی ہے - آلام روزگار کا ستایا ہوا ہوں - زبوں ہالی میرے گلے کا طوق ہے - خانہ جنگی میرا محبوب مشغلہ ہے - جتنا آگے بڑھنے کی کوشش کرتا ہوں اس سے زیادہ پیچھے ک جانب لوٹ جاتا ہوں - فصل بوتا میں ہوں لیکن اسے کاٹتا کوئی اور ہے - میری بستیوں میں انسان بے شمار مرتے ہیں' رونے والے کس کو میسّر میری لاشیں گننے والے نہیں ملتے - میں اپنی کمائی کا بیشتر حصّہ اسلحے خریدنے پر صرف کرتا ہوں - یہ ہتھیار خانہ جنگیوں کے لئے خریدے جاتے ہیں - انہی ہتھیاروں سے میں اپنے ہی گھر میں کمند ڈالتا ہوں - اپنی گاڑھی کمائی سے خریدی ہوئی بارود سے اپنا آشیانہ خود ہی جلاتا ہوں اور کہتا ہوں کے اس تخریب کاری کے پیچھے کوئی بیرونی طاقت ہے - اپنوں کو شکشت دے کر فتح کے جشن مناتا ہوں
غلامی کی بہوت سی قسمیں اور شکلیں ہوا کرتی ہیں - غلامی ک بد ترین صورت ہے گمراہی - آزاد ہونے کے بعد بھی صحیح راستہ نہ ملے اور اگر مل بھی جاۓ اور اس راستے پر چلنے کی توفیق نہ ہو' بصیرت نہ ہو' اخلاص نہ ہو تو یہ صورت حال غلامی سے بھی بدر جہا بد تر ہوتی ہے - ان تمام پستیوں کے باوجود بھی میں نے قسم کھائی ہے کے میں نا بدلوں گا -
آخر میں ہوں کون ؟
تیسری دنیا کا باشندہ
احمد عرفان

No comments:

Post a Comment