Friday, November 6, 2009

غزل

غزل
تیری کج روی بھی غلط نہیں تیرا حسن' حسن تمام ہے
اسے کیا خبر وہ ہے خبر' نہ یہ حسن نقش دوام ہے
سر میکدہ کوئی مست ہے کوئی تشنہ لب کوئی جاں بلب
تیری اک نظر کا ہے معجزہ' نہ کسی کے ہاتھ میں جام ہے
کبھی دل سے زیادہ قریب تھا کبھی جاں سے زیادہ عزیز تھا
تجھے کیا ہوا میرے ہم نفس نہ پیام ہے نہ سلام ہے
میں جنوں کی حد سے گزرگیا توخرد کے دام میں پھنس گیا
نہ میری فنا نہ تیری بقا یہ تو اپنا اپنا مقام ہے
یہی درد میرا رفیق ہے یہی درد میرا نصیب ہے
تجھے کیا غرض میرے ناصحا یہ تو اہل درد کا کام ہے
احمد عرفان

No comments:

Post a Comment