Sunday, November 15, 2009

غزل

غزل
یہ بیتابی یہ درد حیرت افزا دیکھنے والے
بہت خوش ہیں ہمارے دل کا نقشہ دیکھنے والے
میں کہتا تھا کہ بڑھ جایں گی یہ بیہوشیاں تیری
مگر میرا کہا تونے نہ مانا دیکھنے والے
جو قطرہ ہے لہو کا وہ نکین نام دلبر ہے
ادھرآؤ میرا خوں تمنّا دیکھنے والے
چراغ داغ دل اور اس پہ سو سو رنگ ناکامی
ادھر آَین چراغاں کا تماشا دیکھنے والے
بہت بے درد دیکھے ہیں مگر تم سا نہیں دیکھا
لگا کر آگ جلنے کا تماشا دیکھنے والے
کہاں پھر یہ غم فرقت کہاں پھر درد مجبوری
مجھے بھی دیکھ جا او جاتی دنیا دیکھنے والے
نہ اب مجھ سا زمانے میں گراں خاطر شکستہ دل
نہ تم سا درد دل کا یوں تماشا دیکھنے والے
میری گردن پہ خنجر رکھ کے قاتل نے کہا احمد
کہاں ہیں روز بسمل کہ تماشا دیکھنے والے
احمد عرفان

Thursday, November 12, 2009

سود و زیاں

سود و زیاں

آج یوں رات گئے درد نے کروٹ بَدلی

بعد مدّت کے مسیحائی کی صورت نکلی

ایک اک زخم کُہَن ساغر رنگیں بن کر

ہر رگ جاں سے چھلکتا ہے گلابی کی طرح

دشت تنہائی میں امید کی کرنیں پھوٹیں

ہجر کی رات کٹی وصل کا سورج نکلا

پھر تری کاکل پیچاں سے الجھنے کے لئے

دل وحشی نے بھی کچھ حد سے گزرنا چاہا

تری پیشانی و رخسار و بدن کی خوشبو

بس رہی ہے میری ہر سانس میں لمحہ لمحہ

تری مخمور جوانی کے دل آویز خطوط

میرے آلام کی تسکین کا سامان نہیں

سا عت وصل میں گزرے ہوئے لمحوں ک مہک

صبح فردا کے مسائل کا کوئی حل تو نہیں

کیوں تیرے دست حنائی کے وہ رنگین نقوش

اتنے بے رنگ لگیں گے کبھی سوچا بھی نہ تھا

کتنی سنسان سیاہ راتوں کے لمبے ساۓ

میری شہ رگ کا لہو پیتے رہے جیتے رہے

زندگی , تلخی ایّام سے بوجھل ہو کر

انھیں موہوم سوالوں میں گزاری ہم نے

کتنے بے سود ہیں یہ سود و زیاں کے جھگڑے

زندگی جنکے تعاقب میں گزاری ہم نے

احمد عرفان





Jeddah Ki Adabi Mahfilen

احباب اردو کلب تسلیمات،
مرحوم مصطفیٰ قدوائی اور راشد صدیقی صاحبان ان حضرات میں سے ہیں جنھوں نے جدّہ میں ادبی محفلوں کا سلسلہ شروع کیا . شعراء حضرات جو کہ حج یا عمرے کی غرض سے تشریف لاتے انہیں کے اعزاز میں پر تکلّف محفلیں منعقد کی جاتیں. مقامی شعراء بھی اپنا کلام سناتے. مقامی شعراء میں نعیم حامد صاحب، جو کہ اب مدینہ منوورہ میں مقیم ہیں،سجاد بابر اور مرحوم ظفر مہندی صاحبان کا کلام بڑا معیارے ہوا کرتا تھا.انھیں محفلوں میں ہملوگوں نے اکثر و بیشتر طارق غازی صاحب کے والد محترم سے شرف ملاقات حاصل کی. دھیرے دھیرے یہ ذوق یہ شوق نو واردوں میں بھی پیدا ہونے لگا اور ان محفلوں کا دائرہ روز بروز بڑھتا ہی رہا. نئی نئی انجمنیں بن گییں.ایسی سنجیدہ اور پر تکلف ادبی نشستیں منعقد ہونے لگیں کہ جن کا تصور فی زمانہ دلّی ، حیدرآباد یا لکھنو میں بھی نہیں کیا جا سکتا جو کہ آج بھی اردو زبان کے مراکز سمجھے جاتے ہیں .طرحی نشستوں میں بہترین کلام سننے کو ملتا.اس طرح بتجریج ادبی محفلوں کا دائرہ بڑھتے بڑھتے تقریبن سعودی عربیہ کے ہر چھوٹے بڑے شہر تک پھیل گیا . ہند و پاک کے نامور شعرا کی آمد و رفت شروع ہو گیئ کچھ حضرات ایسے تھے جنکا قیام کافی عرصے رہتا، جیسے کہ محترم کلیم عاجز صاحب.جن کے اشعار آج بھی کانوں میں گونجتے ہیں.
دامن پہ کوئی چھینٹ نہ خنجر پہ کوئی داغ
تم قتل کرو ہو کہ کرامات کرو ہو
ہم کو جو ملا ہے وہ تمہیں سے تو ملا ہے
ہم اور بھلا دیں تمہیں کیا بات کرو ہو
-------------
یہ پکار سارے چمن میں تھی' وہ سحر ہوئی وہ سحر ہوئی
میرے آشیاں سے دھواں اٹھا تو مجھے بھی اسکی خبر ہوئی
------------
دن ایک ستم' ایک ستم رات کرو ہو
وہ دوست ہو دشمن کو بھی تم مات کرو ہو
-----------
یوں تو مقتل میں تماشائی بہت آتے ہیں
آو اس وقت کہ جس وقت پکارے جاو
کلیم عاجز صاحب کا پورا خاندان ١٩٤٦/٤٧ کے اندوہ ناک فسادات میں شہید کر دیا گیا. اپنے گاؤں سے کہیں باہر گئے ہوئے تھے .جب لوٹے تو پورا کے پورا گاؤں مقتل بنا ہوا تھا.
یہ تمام واقعات کلیم عاجز صاحب نے اپنی کتاب "وہ جو شاعری کا سبب ہوا " میں تحریر کئے ہیں . ا س جانکاہ حادثے کی وجہ سے برسہا برس خاموش رہے. اور پھر جب گویا ہوئے تو میر کی زبان، میر کا لہجہ اور میر کا درد ایک اک الفاظ سے ٹپکنے لگا
احمد عرفان

جناب احمد عرفان صاحب آپ نے کلیم عاجز صاحب کا کلام لکھ کر ہم پر احسان کیا ہے ۔ کیا اسلوب بیان ہے کہ بے ساختہ زبان سے واہ واہ نکل جاتی ہے ۔۔ان کے خاندان کے ساتھ جو اندوہناک واقعہ ہوا وہ انتہائ افسوسناک ہے یقینا ان کے کلام میں اس
کا عکس نظر آتا ہے

قاضی زہیر صاحب تسلیمات ،
شکریہ ، امرجینسی کا دور دورہ ہے .دلّی کے لال قلعہ میں جشن آزادی کی تقریبات کے سلسلہ میں محفل مشاعرہ کی صدارت مسز اندرا گاندھی کر رہی ہیں .کلیم عاجز صاحب مائک پر تشریف لاتے ہیں اور مسز گاندھی کو مخاطب کرنے کے بعد اپنی غزل کے یہ اشعار سنا رہے ہیں
دامن پہ کوئی چھینٹ نہ خنجر پہ کوئی داغ
تم قتل کرو ہو کہ کرامات کرو ہو
منتظمین مشاعرہ اور تمام سرکاری اہل کاران کے پسینے چھوٹ رہے ہیں ،کانا پھوسی چل رہی ہے کہ کلیم عاجز صاحب کو کس طرح روکا جاے. مسز گاندھی کے چہرے کےتاثرات کو بغور سمجھنے کی کوشش کی جا رہی ہے. بہرکیف جب رخصت ہونے لگے تو صاحب صدر نے ایک غزل کی فرمایش اور کی
منتظمین کے حواس درست ہوئے .دوسری غزل پہلی سے کہیں زیادہ تیر بحدف نکلی،
" یہ شہ سوار وقت ہیں اتنا نشہ میں چور
گر جایںگے اگر یہ اتارے نہ جایں گے
مسز گاندھی کلیم عاجز صاحب کے ایک اک شعر کو بغور سنتی رہیں اور ایک سنجیدہ مسکراہٹ چہرے پر آتی جاتی رہی . اسی کے کچھ عرصۂ بعد حکومت ہند کی جانب سے کلیم عاجز صاحب کو پدم بھوشن کے اعزاز سے نوازا گیا .
الحمدللہ مجھے یہ شرف حاصل ہے کہ کلیم عاجزصاحب میرے غریب خانہ پر بھی قیام کرتے تھے .نہایت متقی پرہزگار، عبادت گزار اور سادہ لوح. یہی وہ لوگ ہیں جو فی زمانہ تبرکات میں سے ہیں .ہمارے اسلاف کی یادگار ہیں.کلیم عاجز صاحب کا مستقل قیام پٹنہ میں رہتا ہے. انکا ایک اور شعر یاد آگیا .
گنتی تو نہیں یاد مگر یاد ہے اتنا
سب زخم بہاروں کے زمانے لگے ہیں
خیر اندیش
احمد عرفان


Tuesday, November 10, 2009

aligarh Tera hai ya Mera

علیگڑھ اور علیگڑھ کے مسایل
ہر شاخ چمن ہے شولہ فشاں کیا خاک جہاں پر برسے گا
خود اپنے چمن تک آ نہ سکا غیروں کے چمن پر برسے گا ؟
علیگڑھ مسلم یونیورسٹی جس نے اس سرزمین پر تعلیم حاصل کرنے والے ہر طالب علم کو ایک دوسرے سے لافانی رشتوں میں جوڈ دیا ہے . میں اپنے علیگڑھ کے انھیں سب بھائیوں سے مخاطب ہوں. ہم سب پر سر زمین .علیگڑھ کے کچھ حقوق بھی ہیں چاہے وہ اساتذہ کرام ہوں یا طلبا علیگڑھ اور سابق طلبا .علیگڑھ کے یہ قرض ہم سب کس طرح چکا رہے بڑے شرم کی بات ہے .کیا ہم سب یہ بھول گئے کہ ہم علیگڑھ کے چشم چراغ ہیں اس عظیم درسگاہ کے ہونہار فرزند ہیں.ہونہار وہی کہلاتا ہے جو مادر درسگاہ کے حقوق کو کبھی فراموش نہیں کرتا. کاش کہ موجودہ علیگڑھ کی نظر اپنے ماضی کے ان سرپھرے نوجوانوں کی طرف اٹھے جن کی سرگوشیاں ہندوستان کے طول و عرض میں پھیلی ہوئی مختلف تحریکوں پر اثرانداز ہوئیں. سیاست ہو یا ثقافت ،ادب ہو یا تمدّن ان کی جولانیوں نے پورے برصغیر میں اپنے نقوش کی ایسی چھاپ سبت کی جس کو تاریخ کبھی نہ مٹا سکے گی. ہم نے اس شممع علم کے ان پروانوں کی محفلوں کونہیں دیکھا اور نہ ہی ان فرزانوں کی سرگوشیاں اپنے کانوں سے سنیں. افسوس کہ وہ زمانہ دیکھ نہ سکے پھر بھی یہاں کی دلکش فضاوں میں ان سریلے نغموں کی گونج آج بھی سنائی دیتی ہی. مجاز مرحوم کے ترانے کو سن کر اس عظیم دور کی یادیں تازہ کر لیتے ہیں. سرسید ڈے پر جسے سن کر محض تالیاں بجا کر اس دور رفتگاں میں گم ہو جاتے ہیں.مگر افسوس کہ وہ علیگڑھ اب کہاں جو خواب و خیال کی دنیا ہو کر صرف ہمارے ذہنوں میں بسا ہوا ہے
'زمانہ بدلا، تہذیبیں بدلیں، قدریں بدلیں ' کبھو ان سب کو علیگڑھ نے بدلا لیکن زمانے کی گرم و سرد ہواؤں سے علیگڑھ خود بدل گیا."ثبات ایک تغییر کو ہے زمانے میں "بدلنا ضرور چاہیے لیکن صحت مند قدروں کے ساتھ.لیکن یہاں تو آنوے کا آنوا ہی بگڑ گیا ' نہ وہ دیوانے ہی رہے اور نہ وہ فرزانے . اک ہجوم سرگشتہ ہے. مردم شماری ہو تو بے شمار،مردم شناسی ہو تو قحط لرجاال. کہاں وہ علیگڑھ جس کی ہر روایت دنیا سے نرالے تھی. جسکے اقامتی کردار میں کتنا سکون تھا، کتنا لحاظ تھا. علیگڑھ کے اس اقامتی کردار کی سب سے اہم روایت یہاں کے اساتذہ اور طلبا کے درمیان مضبوط رشتوں کی ہمواری اور شفقت و مرووت. افسوس صد افسوس کہ اب وہ ناپید ہو چکی ہے .
خطاوار کون ہے یہ اپنے اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھنے کی ضرورت ہے. اور اپنے گریبان میں جھانک کر پہلے کسے دیکھنا چاہئے ؟ در اصل ہم نے علیگڑھ یونیورستے کو یاد رکھا اور بانی درسگاہ کے تعلیمی مشن کو بھول گئے. علیگڑھ کا قیام محظ اس لئے نہ ہوا تھا کے کسی بھی تعلیمی ادارے کی طرح یہاں سے بھی ڈگریاں تقسیم کی جاییں. ڈگری ںتقسیم ہونے کا کام تو جاری ہے لیکن کردارسازی نہ اساتذہ میں باقی ہے اور نہ ہی طلبا میں . لیکن اس کی ذمّہ داری کس پر آید ھوتی ہے ؟ اگر کردار سازی کرنے والوں کا خود کوئی کردار نہ رہے تو وہ کردار سازی کیا کریں گے اور کس کی کریں گے.
بڑے افسوس کی بات ہے کہ پچھلی چند دھائیوں میں مجموعے اعتبار سے علیگڑھ کے اساتذہ اور ایکزکیٹو کونسل کا رول بہت ہی مایوس کن رہا ہے.اپنا دامن جھاڑتے ہوئے ہر بے ضابطگی کی ذمّہ داری طلبا کے سر منڈھ دی جاتی ہے. سارے سبق طلبا کو سکھاے جاتے ہیں. اپنے گریبان میں نہ اساتذہ کرام اور نہ ہی کونسل کے ممبران جھانک کر دیکھتے ہیں. علیگڑھ میں کنبہ پروری کی بنیاد کس نے ڈالی؟ اساتذہ اور کونسل کے ممبران کی گروہ بندیوں نے طلبا کو گروہوں میں بانٹ کراپنے اپنے سیاسی اور زاتی مقاصد کے حصول کے لئے استمعال کرنا شروع کیا. کنبہ پروری کے پروردہ لوگوں نے اپنے بیٹوں،دامادوں،بھانجے بھتیجوں کو نا اہل ہوتے ہوئے بھی ریڈر اورپروفیسر بنا دیا. اگر ایمانداری سے دیکھا جائے تو علیگڑھ کی ہرفیکلٹی میں ایسے استادوں کی کمی نہیں. یہی کہانی نان ٹیچنگ اسٹاف کی بھی ہے. میں ہرگز یہ گستاخئ نہیں کر سکتا کہ کے یہ دعوه کروں کے سب کے سب ایسے ہیں، جو بے چارے ایسے نہیں وہ حاشیے پر چلے گئے ہیں.ان کی بات سننے والا کوئی نہیں.
آج علیگڑھ میں جو کچھ بھی ہو رہا ہے یہ تو ہونا ہی تھا. یہ کوئی انہونیں بات نہیں. اور اگر یہے حالات رہے تو خدا نہ کرے اس سے بھی بد تر حالات کا سامنا کرنا پڑے گا. علیگڑھ کے خیر خواہوں کی کمی نہیں، یہ سلسلہ پچھلی ایک صدی سے چل رہا ہے اور انشا الله یوں ہی چلتا رہے گا.لیکن علیگڑھ فورم کی پوسٹنگ میں مستقل یک طرفہ بیانات آ رہے ہیں. زمینیں حقایق کو نہ سمجھتے ہوئے اس طرح کے بیانات حالات کو اور زیادہ خراب کر رہے ہیں. جس سے طلبا میں غیر اعتمادی پیدہ ہو رہی ہے. میں علیگڑھ کے تمام ساتھیوں سے گزارش کر رہا ہوں کہ ہم سب متحد ہو اس بات کی کوشش کریں کہ یونیورستنے جلد سے جلد کھلے تا کہ تعلیمی سلسلہ شروع ہو.
جنتر منتر دہلی میں دھرنے پر موجود طلبا سے ہم لوگوں نے ملاقات کی. ہمارے ساتھ جناب حسن کمال جو علیگڑھ المنائی امیرکہ کے بانیوں میں ہیں شریک تھے.ہم لوگوں نے اپنے نوعمر ساتھیوں کی تمام باتوں کو بغور سنا اور بات چیت کی.اس میں کوئی شک نہیں کے بہت سے مسایل ایسے ہیں جن پر فوری طور پر توجوہ دینے کی اشد ضرورت ہے. طلبا سے گفت و شنید کا سلسلہ بند کرنے سے مسلے ہرگز ھل نہیں ہو سکتے اور نہ ہی کچھ طلبا کو یونیورستے سے خارج کرنے سے کچھ حاصل ہوگا.ضرورت اس بات کی ہے کہ درسگاہ کے مسایل میں طلبا کو بھی برابر کا شریک کرنا چاہئے. سسٹم میں ٹرانس پیریسی ہو. یونیورسٹی کے وہ زممہ داران جن میں محترم وایس چانسلر صاھب بھی شامل ہیں جنہیں میں نے خود دہلی میں لابینگ کرتے ہوئے دیکھا ہے، اگر یہ کام علیگڑھ کے ایک سچے خیر خواہ ہونے کے ناطہ وہ طلبا علیگڑھ کے بیچ کریں تو مجھے پورا یقین ہے کے حالات ضرور بدلیں گے
وہ دشت کہاں وہ بزم کہاں وہ سوز کہاں وہ ساز کہاں
اس خلد بریں کے قصوں کو دہراؤ نہ اب تم یار یہاں
عرفان احمد
سابق آنریری سکرٹری
اولڈ بوایز ایسوسی ایشن.لکھنو

Saturday, November 7, 2009

غزل
پتنگے شمع سے دل کو لگا کے
قضاء کی گود میں سوے ہیں جا کے
نشیمن کا ہمارا تنکا تنکا
خزاں کے کام آیا کچھ ہوا کے
برا دل پر اثر پڑتا ہے اس کا
ہمیں دیکھا نہ کیجیۓ مسکرا کے
شب فرقت کے جاگے سو رہے ہیں
چراغ زندگی اپنا بجھا کے
بیاں کرنا ہے قصّہ درد دل کا
تمہیں اک روز اپنے گھر بلا کے
تمہارا نام کیوں بیمار لیتے
اگر ممنون ہو جاتے دوا کے
زمانے بھر کی تکلیفیں اٹھایئں
چمن میں آشیاں اپنا بنا کے
ستارہ غم کا ڈوبا یوں سحر کو
ہوئی کم روشنی منزل پہ جا کے
بتا تی ہے بشاشت رخ کی احمد
وہ خوش ہیں مجھ کو دیوانہ بنا کے
احمد عرفان

غزل

غزل
فرقت کا رنج تھا نہ غموں کا ملال تھا
تھا بھی جو نزع میں تو تمہارا خیال تھا
آتی تھی مثل آپ کے مجھ کو بھی دشمنی
دل دے چکا تھا میں مجھے اسکا خیال تھا
سو فطرتوں سے دل کو ہمارے جو لے گیا
وہ کس کا تھا فریب وہ کس کا جمال تھا
سمجھا ہوں بعد مرگ محبّت کا ارتباط
جو تھا میرا خیال وہ اسکا خیال تھا
دنیا سے کیا غرض اسے عقبه سے کیا غرض
تیرے فقیر شہر کا تجھ سے سوال تھا
بس بس قسم نہ کھاؤ مجھے اعتبار ہے
ہاں ہاں ضرور آپ کو کو میرا خیال تھا
امید اک بلا تھی میری جان کے لئے
جب تک کہ میں جیا مجھے مرنا محال تھا
آیا ہوں خالی ہاتھ میں اے کردگار حشر
دنیا میں لٹ گیا جو میرے پاس مال تھا
آواز باز گشت کا برسوں رکھا ہے ورد
بیگانہ جواب میرا ہر سوال تھا
ٹکرا کے سر جو رات تیرے در سے مر گیا
شاید کوئی غریب کوئی خستہ حال تھا
میں اور مجھ کو شکوہ تنہائی فراق
اچھا خیال تھا تمہیں اچھا ملال تھا
احمد وہ آ رہا ہے مجھے دیکھنے کوئی
نالہ میں آج کوئی نہ کوئی کمال تھا
احمد عرفان

غزل

غزل
اچھا ہوا نگاہ ستم دل میں رہ گئی
قاتل کی آبرو بھری محفل میں رہ گئی
پلٹی نہ حشر تک کسی دل میں وہ پھر کبھی
میری نگاہ شوق بھی محفل میں رہ گیی
شام شب فراق میں بے موت مر گئے
حسرت ہمارے دل کی جو تھی دل میں رہ گیی
مرنے کی آرزو میں بھی جینا پڑا مجھے
کھنچ کر جو تیغ قبضہ قاتل میں رہ گیی
دنیاۓ غم وسیع تھی احمد مگر وہ آج
اتنی سمٹ گیی کہ میرے دل میں رہ گیی
احمد عرفان

Friday, November 6, 2009

شرفاۓ لکھنؤ
کہنے کو ہم ضرور ہیں شرفاۓ لکھنؤ
اس قول کا تضاد ہیں شرفاۓ لکھنؤ
وہ اور تھے جو سوے فلک کوچ کر گئے
باقی ہیں اب تو نام کے شرفاۓ لکھنؤ
ماضی سے بہرہ مند ہیں فردا سے بے خبر
کیسے عجیب لوگ ہیں شرفاۓ لکھنؤ
جاہ وحشم میں ان کا سا کوئی نہ ہو سکا
پلٹی ہوئی بساط ہیں شرفاۓ لکھنؤ
پاس و لحاظ وعجز و مروت ہے ان پہ ختم
کرتے ہیں وار پیچھے سے شرفاے لکھنو
ہر شخص مبتلا ہے یوں فسق و فجور میں
عزت ماب پھر بھی ہیں شرفاۓ لکھنؤ
دام قفس میں آیا ہے عرفان بے اماں
حالات سازگار ہیں شرفاۓ لکھنؤ
احمد عرفان

शुरफाये लखनऊ
कहने को हम ज़रूर हैं शुर्फाए लखनऊ
इस क़ौल का तज़ाद हैं शुर्फाए लखनऊ
वोह और थे जो सुए फ़लक कूच कर गए
बाकी हैं अब तो नाम के शुर्फाए लखनऊ
माज़ी से बहरा मंद हैं फ़र्दा से बे खबर
कैसे अजीब लोग हैं शुर्फाए लखनऊ
जाहो हषम में इनका सा कोई हो सका
मौज़ूए मुश्ते खाक हैं शुर्फाए लखनऊ
पासओ लिहाज़ो एज्ज़ो मुरव्वत है इनपे ख़त्म
करते हैं वार पीछे से शुर्फाये लखनऊ

हर फ़र्द मुब्तिला है यूँ फ़ुस्क़ो फ़ुजूर में
इज्जत मोआब फिर भी हैं शुर्फाए लखनऊ
दामे क़फ़स में आया है इरफान ऐ बे अमां
हालात साज़गार हैं शुर्फाए लखनऊ
अहमद इरफान

غزل

غزل
تیری کج روی بھی غلط نہیں تیرا حسن' حسن تمام ہے
اسے کیا خبر وہ ہے خبر' نہ یہ حسن نقش دوام ہے
سر میکدہ کوئی مست ہے کوئی تشنہ لب کوئی جاں بلب
تیری اک نظر کا ہے معجزہ' نہ کسی کے ہاتھ میں جام ہے
کبھی دل سے زیادہ قریب تھا کبھی جاں سے زیادہ عزیز تھا
تجھے کیا ہوا میرے ہم نفس نہ پیام ہے نہ سلام ہے
میں جنوں کی حد سے گزرگیا توخرد کے دام میں پھنس گیا
نہ میری فنا نہ تیری بقا یہ تو اپنا اپنا مقام ہے
یہی درد میرا رفیق ہے یہی درد میرا نصیب ہے
تجھے کیا غرض میرے ناصحا یہ تو اہل درد کا کام ہے
احمد عرفان

Monday, November 2, 2009

غزل

غزل
سب کچھ بکھر چکا ہے کوئی آسرا نہیں
کیسے کہوں کہ مجھ کو کسی سے گلہ نہیں
سایہ بھی گر ہو ساتھ تو پیچھے کبھی نہ چل
اس شہر بے اماں میں کسی سے وفا نہیں
جتنے تھے تیر تیری کمان میں وہ سب چلے
میں کیا کروں کہ پھر بھی تیرا دل بھرا نہیں
میں نے ندامتوں کے بھی دریا بہا دیے
لیکن ہے اس میں پاس مروّت ذرا نہیں
تنکے سمینٹتا رہا میں عمر بھر یونہی
لیکن ذرا سی دیر میں کچھ بھی رہا نہیں
میں نے رفاقتوں میں بھی کچھ فاصلے رکھے
ایسی نزاکتوں کو وہ سمجھا ذرا نہیں
میری تباہیوں پہ ندامت ہے کیوں اسے
میں نے تو اس کا ذکر کسی سے کیا نہیں
وہ شخص جس کا نام ہے عرفان و آگہی
کہنے کو جی رہا ہے مگر وہ مرا نہیں

Sunday, November 1, 2009

Lucknowi

لکھنوی
---------

سات پارچے کا خلعت، جسم نازک پر کبھی چپکن تو کبھی ریشم کا چغہ جس پر آری' زردوزی کا نفیس سچا کام.، سرخ ریشم کا گھیرے دار پائجامہ ، دیدہ زیب ناگرے، سر پر شملہ، ہاتھ میں خوبصورت طلائی نقشی پان کی ڈبیا ، ہمہ گیر خصوصیات کا حامل، مرنجہ مرنج ،بحرالعلوم، خطیب منبر ، حاذق طبیب ، یکتاۓ ہنر - علم و حلم ، شجاعت و تہوّر ، امارت و ثروت اس کی اولاد بن کر پھیلے اور اس کی تہذیب کا آوازہ چار دانگ عالم میں بلند ہوا - اس نے تہذیب و تمدّن، فصاحت و بلاغت ، نشست و برخاست ، زبان و بیان، کو اوج کمال تک پہونچایا کہ دنیا اس کی تقلید پر فخر کرتی
یہ تھا اصل لکھنوی
اور پھر......
سر پر تنزیب کی دوپللی ٹوپی، بدن پر درج دار ادھی کا کرتا ، گھٹنوں تک لٹکتا ہوا ریشمی ازار بند، گلے میں سرخ ریشمی رومال، منہ میں پان کی گلوری، بھنگ یا افیون کی گولی سے بدمست بہکتے ہوئے قدم ، ہاتھوں میں رنگین رومال سے ڈھکا ہوا بٹیر، تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد بٹیر کی چونچ کو اپنے منہ میں دیکر اپنی گرم سانسوں سے گرماتا ہوا ، گھر میں کل چولھا جلے گا بھی کہ نہیں ، گرد و پیش سے یک سر بے خبر بٹیر بازی کے مشغلے میں ہمہ تن مصروف - کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی - فربہ اندام بٹیریں ایک دوسرے پر اپنے نوکیلے پنجوں سے وار پر وار کر رہی ہیں اور بٹیر باز اپنے پیادوں کو میدان کارزار کے داؤں پینچ سکھا رہے ہیں -
ہاں بیٹے قربان جاؤں تری ہر ہر ادا پر، دے لات....
داب لے اپنے مضبوط پروں سے....
چونچ پکڑ دوغلے کی....
ابے اصیل ہے تو بھاگتا کیوں ہے....
کائی کی تہیں لگی ہی بوسیدہ حویلی کی کھلی چھت پر کبھی کبوتر بازی کرتا ہوا یا پتنگ بازی میں ہمہ تن گوش پینچ لڑاتا ہوا....
ڈھیل دے بے، ڈھیل دے....
چرخی کر بے،چرخی کر....
کی آوازیں لگاتا ہوا کوئی نظر آے تو برملا زبان سے یہی نکل جاتا کہ ، یہی ہے ہمارے شہر نگاراں کی جاتی ہوئی بہار اور یہی ہے ہمارا بگڑا ہوا مسخ شدہ لکھنوی چہرہ
احمد عرفان
نا مکمّل - بقیہ اگلی قسط آیندہ

लखनवी
पहला भाग
सात पारचे का खिलअत, जिस्म ए नाज़ुक पर कभी चिपकन तो कभी रेशमी चुगा जिस पर आरी ज़र्दोज़ी का नफ़ीस सच्चा काम, सुर्ख रेशम का घेरे दार पैजामा, पैरों में दीदा ज़ेब नागरे, सर पर शिमला, हाथ में ख़ूबसूरत तिलाई नक्शी पान की डिब्या, हमा गीर खुसूसियात का हामिल, मिरंजा मिरंज, बहरुल उलूम,खतीबे मिम्बर, हाजिक़ तबीब, यकताए हुनर-
शुजात ओ तहुव्वुर, इल्म ओ हलम, इमारत ओ सर्वत इसकी औलाद बन कर फैले और इसकी तहज़ीब का आवाज़ा चार दांग आलम में बुलंद हुआ और इसने तहज़ीब ओ तमददुन, फ़साहत ओ बलाग़त, नशिस्त ओ बर्खास्त और ज़बान ओ बयान को औजे कमाल तक पहोंचाया कि दुनिया इसकी तक़लीद पर फ़ख्र करती -
यह था असल लखनवी
और फिर ......
सर पर तेंजेब की दोपल्ली टोपी, बदन पर तंजेब का दरज दार अध्ही का कुर्ता, घुटनों तक लटकता हुआ रेशमी इज़ार बंद, गले में सुर्ख रेशमी रूमाल, मुंह में पान कि गिलौरी, भंग या अफ़्यून कि गोली से बहकते हुए बदमस्त क़दम, हाथों में रंगीन रूमाल से ढका हुआ बटेर, थोड़ी थोड़ी देर के बाद बटेर कि चोंच को अपने मुंह में देकर अपनी गर्म साँसों से गर्माता हुआ, घर में कल चूल्हा जले गा भी के नहीं, अपने गिर्द ओ पेश से यक्सर बे खबर बटेर बाज़ी में हमा तन मसरूफ - कान पड़ी आवाज़ सुनाई नहीं देती - फ़रबा अन्दाम बटेरें एक दुसरे पर अपने नुकीले पंजों से वार पर वार कर रही हैं और बटेर बाज़ अपने पियादों को मैदान य कार ज़ार के दाओं पेंच सिखा रहे हैं -
हाँ बेटे क़ुर्बान जाऊं तेरी हर हर अदा पर, दे लात....
दाब ले अपने मज़बूत परों से....
चोंच
पकड़ दोग्ले की....
अबे असील है तो भागता क्यों है....
काई की तहें लगी हुई बोसीदा हवेली की खुली हुई छत पर कभी कबूतर बाज़ी करता हुआ या पतंग बाज़ी में हमा तन गोश पेन्च लड़ाता हुआ....
ढ़ील दे बे ढ़ील दे....
चरखी कर, बे चरखी कर....
की आव
ज़ें लगाता हुआ कोई नज़र आता तो बरमला ज़बान से यही निकल जाता के यही है हमारे शहरे निगाराँ की जाती हुई बहार और यही है हमारा मस्ख शुदा लखनवी चेहरा
अहमद इरफान
ना मुकम्मल - बकिया अगली क़िस्त आयेंदा

لکھنوی

دوسری قسط

لکھنوی ہم پر فدا تھا , ہم تھے فداے لکھنو

کبھی اس نے تہذیب و تمدّن ’ علم و فن اور فکر و نظر میں اپنی انفرادیت کا لوہا منوا لیا - اس کی رنگا رنگ بزم آرائیوں اور گنگا جمنی تہذیب ‘ میل جول اور محبّت و انسیت نے ایک بے مِثآل ماحول پیدا کیا . اس نے دبستان ادب میں ایسے ایسے خوش رنگ نقوش چھوڑے جنکی نظیر کہیں نہیں ملتی . زبان کی شگفتگی ’ تخیّل کی ندرت ‘ بیان کی جادوگری اور سلاست و روانی کے چشموں نے کتنی ہی تشنہ لب نسلوں کی پیاس بجھائی . اس کی شیریں بیانی , نفاست پسندی , خوش گفتاری , منکسرل مزاجی کی مثال نہیں ملتی . غرض کے یہ اس بلند و بالا زینے تک پہونچا جس کے بعد رفعت کا تصوّر بھی نہیں کیا جا سکتا .

اس کے محلوں اور محل سراؤں میں پردوں اور جھومر سے آراستہ دیوان , کارچوبی مسندیں , جواہر کی کشتیاں , دیدہ زیب لباس , طلائی اور نقرئی نقشی ظروف . ڈیوڑھی پر کوہ پیکر ہاتھی , پیادے اور روشن چوکیاں . اس کی مححفلوں میں یکتاۓ روزگار اہل فن , عیش و نشاط , رقص و موسیقی . اس کی مصاحبت میں رققاس , مراثی , بھانڈ , خدمات گار , چوب دار , آب کش . اس کے دسترخوان پر ان گنت خوش رنگ و خوش ذائقہ پکوان .

عروج کے بعد زوال , بلندی کے بعد پستی اور فراز کے بعد نشیب سے سابقہ کیوں کر پڑتا ہے

اس لئے کہ جب معاملات کی باگ ڈور نا اہلوں کے حوالے ہوتی ہے تو وہ اپنی بد اعمالیوں سے کارگاہ حیات کے تمام کل پرزے بگاڑ کر رکھ دیتے ہیں . افسوس اپنے ماضی کے شاندار سرمایے پر اس نے بھی سیاہی کے داغ لگانا شروع کر دیے . جا نشینی کے لئے جھگڑے شروع ہو گئے . علم و عمل سے دور کا واستہ نہ رہا . اس کے تہذیبی مرکز گھروں اور محفلوں سے اٹھ کر بالا خانوں میں پہونچ گئے . عیش و عشرت کی پستیوں میں گر کر کبوتر بازی , مرغ بازی , بٹیر بازی , پتنگ بازی , قمار بازی , اکھاڑے بازی , موممہ بازی اور نہ جانے کتنی بازیوں کا موجد بن گیا . اس کے شب و روز انہی بازیوں میں گزرنے لگے . مہاجن سے قرض لے کر شیروانی سلواتا , آموں کی فصل میں گھر کے برتن گروین رکھوا کر ام نوش فرماتا اور پھر آبا و اجداد کے بیش بہا قلمی نسخے ردّی میں بیچ کر برتن چھڑاتا . اس کے گھروں کے نہ جانے کتنے طلائی کنگن اور زیورات بالا خانوں کی نذر ہو گئے . دھیرے دھیرے گھر کا کل اساسہ مہاجن کے حساب میں چلا گیا , نوبت محلوں اور جاگیروں تک پہونچ گئی .وسیقوں پر گزر اوقات ہونے لگی .

یہ تھا ١٨٥٧ کی غدر کے بعد کا منظر نامہ . شکست و ریخت کے بعد بھی جاگیر دارانہ نظام کے پروردہ طبقے کی آنکھیں نہ کھلیں . لکھنؤ نے ایک بار پھر کروٹ بدلی . اور انگلو لککنووی تہذیب نے بال و پر نکالنا شروع کئے . جن کے آبا و اجداد کے مصاحبین کی گنتی اور شمار کا کوئی حساب نہ تھا وہ انگریزی صاحب بہادروں کی مصاحبت میں لگ گئے . اور گوروں کی تقلید پر فخر کرنے لگے . قیصر باغ سفید بارہ دری میں بٹلر بہادر کے ساتھ مجروں میں داد عیش دینے لگے . عالم یہ کہ رؤسا اس بات پر فخر کرتے ک خاندانی ڈیرے دار توایفیں ایرے غیروں کو اپنے کوٹھے پر چڑھنے نہیں دیتیں .

انگریزوں نے اسباب بغاوت کا گہری نظر سے تجزیہ کیا اور اس سے سبق سیکھ کر اسپتال اسکول , کالج سڑکیں , کنٹونمنٹ , ٹیلیفون , ٹیلیگراف اور ملک بھر میں ریل کی پٹریوں کے جال پھیلانا شروع کر دیے کچہری,عدالتیں,کوتوالیاں,اور تحصیلوں کے دفاتر قائم ہونے لگے لکھنؤ اور اس کے قرب و جوار میں جہاں آمد و رفت کے لئے کچے راستے بھی ہموار نا تھے , نَے نَے جاگیر داروں اور تعلق داروں ک شاندار حویلیاں تعمیر ہونے لگیں . شکار گاہوں کا اہتمام ہونے لگا, مسوری , نینی تال اور رانی کھیت میں بنگلے بننا شروع ہو گئے . اس طبقے نے نہ سکول , نہ اسپتال اور نہ ہی غریب رعایا کی راحت کا کوئی کارنامہ انجام دیا . اس کے برعکس انگریزوں نے انہی مقامات پر معیاری اسکول اور کالج قائم کئے




Lucknowi

(Second part)

Lucknow ham par fida tha, ham the fidaye Lucknow

Kabhi es ne tahzib o tamaddun’ elmo fan aur fikr o nazar mein apni enfraadiyat ka loha manwa liya. Es kee ranga rang bazm araaiyon aur ganga jamni tahzib ‘ mel jol aur mohabbat o unsiyat ne aik bemisaal mahol paida kiya. Es ne dabistaan e adab main aise aise khush rang naqush chore jinki nazeer kahin nahi milti. Zabaan ki shaguftagi’ takhayyul ki nudrat‘ Bayaan ki jadoogari aur salaasat o rawani ke chashmon ne kitni hi tashna lab naslon ki pyaas bujhaee. Es ki shireen bayani, nafaasat pasandi, khush guftaari, munkasirul mizaaji ki misaal kahin nahi milti. gharaz ke yeh us buland o balaa zeene tak pahoncha jis ke baad raf’at ka tasawwur bhi nahi kiya ja sakta.

Es ke mahlon aur mahal saraaon mein pardon aur jhoomar se arastaa deewaan, karchobi masnaden, jawahar ki kishtiyan, moattar o deedah zeb libaas, tilaee aur nuqraee naqshi zuroof. Deorhi par koh paikar haathi, piyaade aur raushan chukiyan. Es ki mahhfilon mein yaktaae rozgaar ahle fun, aish o nishaat, raqs o mausiqi. Es ki musahibat mein raqqaas, meraasi, bhaand, khidmat gaar, chob daar, aab kash. Es ke dastarkhwaan par an ginat khush rang o khush zaiqa pakwaan.

Urooj ke baad zawaal, bulandi ke baad pasti aur faraaz ke baad nasheb se sabqa kyon kar padtaa hai?

Es liye ke jab moamlaat ki bag dor na ahlon ke hawaale hoti hai to woh apni bad amaalion se kargaah e hayat ke tamaam kal purze bigar kar rakh dete hain. Afsos apne maazi ke maay e naaz sarmaaye par es ne bhi siyahi ke daagh laganaa shuroo kar diye. Ja nasheeni ke liye jhagre shuru ho gaye. Elm o amal se door ka wastaa na raha. Es ke tahzeebi markaz gharon aur mahfilon se uth kar balaa khano mein pahonch gaye. Aish o ishrat ki pastiyon mein gir kar kabootar bazi, murhg bazi, bater bazi, patang bazi, qumar bazi, akhare bazi, muamma bazi aur na jane kitni bazion ka mujid ban gaya. Es ke shab o roz enhi bazion mein guzarne lage. Mahajan se qarz le kar sherwani silwata, aamon ki fasl mein ghar ke bartan girwin rakhwa kar aam naush farmataa aur phir aaba o ajdad ke besh baha qalmi nuskhe raddi mein bech kar bartan churataa. Es ke gharon ke na jane kitne tilaae kangan aur zewraat balaa khanon ki nazr ho gae. Dheere dheere ghar ka kul asaasa mahajan ki nazr ho gaya, naubat hawelion aur jageeron tak pahonch gaee. Waseeqon par guzar awqaat hone lagi.

Yeh tha 1857 ki ghadar ke baad ka manzar namah. Shikast o reekht ke baad bhi jaagir darana nizam ke parwardah tabqe ki aankhen na khulin. Lucknow ne aik baar phir karwat badly. Aur Anglo lucknowi tahzeeb ne baal o par nikalna shuroo kiye. Jin ke abaa o ajdaad ke musahebeen ki ginti aur shumaar ka koi hisaab na tha woh angrezi sahab bahaduron ki musaahibat mein lag geye. Qaiser bagh Safed baradadari mein butler bahadur ke saath mujron mein daad e aish dene lage. Angrezon ne asbaab e baghawaat ka gahri nazar se tajzia kiya aur aspataal, school, college, sadken, cantonment, telephone, telegraph aur mulk bhar mein railway line ka jaal bichanaa shuroo kar diya, kachahri, addalaten, kotwalian aur tahsilon ke dafaatir qaim hone lage aur esi Lucknow ke qurb o jawar mein jahan aamad o raft ke liye kache raste bhi hamwaar na the, nae nae jagir daron aur ta’aluq daron ki shandar haweliyan banne lagin. Shikar gahon ka ehtimam hone laga, masoori, naini tal aur raani khet mein bangle banna shuroo ho gaye. Es tabqe ne na school, na aspataal aur na hi ghareeb riyaya ki rahat ka koi karnama anjaam diya. Angrezon ne enhi muqamaat par alaa tareen meyari missionary school qaim kiye.

Ahmad Irfan

میں نہ بدلوں گ

میں نہ بدلوں گا
علامہ اقبال نے کیا خوب کہا ہے " ثَبآت ایک تغییر کو ہے زمانےمیں "- علامہ کے اس قول سے میں پوری طرح متفق ہوں- لیکن میں نے
قسم کھائی ہے کہ میں نہ بدلوں گا - زمانے نے کیسی کیسی کروٹیں بدلیں - کیسے کیسے انقلاب برپا ہوئے اور ہو رہے ہیں - سورج سوا نیزے پر آ گیا - میرے دل میں انسانیت کا درد ہے - مجھے ہُنگآمے جنگ و جدل سے کیف ملتا ہے - خوں ریزی کے افسانوں سے بھی رغبت ہے - میرا محبوب نغمہ آہنگ بغاوت ہے - بغاوتوں کا امام ہوں - میں نے رواج کے اصنام کو توڑا ہے - میں نے غلامی کی زنجیروں کو توڑا اور آزاد ہوا لیکن پھر اپنوں ہی نے مجھے محکوم بنا لیا - اگر خوش قسمتی سے اس محکومیت سے نجات ملی تو دوسروں کی اقتصادی محکومی تلے دب گیا - غرض کہ قصّے آدم کو رنگیں کر گیا اپنا لہو میرے لئے زندگی مہنگی اور موت سستی ہے - بارود سے بوجھل فضاؤں میں جی رہا ہوں - تنگ نظری سے میرا دامن تار تار ہے - فرسودہ خیالی اب میری میراس بن چکی ہے - آلام روزگار کا ستایا ہوا ہوں - زبوں ہالی میرے گلے کا طوق ہے - خانہ جنگی میرا محبوب مشغلہ ہے - جتنا آگے بڑھنے کی کوشش کرتا ہوں اس سے زیادہ پیچھے ک جانب لوٹ جاتا ہوں - فصل بوتا میں ہوں لیکن اسے کاٹتا کوئی اور ہے - میری بستیوں میں انسان بے شمار مرتے ہیں' رونے والے کس کو میسّر میری لاشیں گننے والے نہیں ملتے - میں اپنی کمائی کا بیشتر حصّہ اسلحے خریدنے پر صرف کرتا ہوں - یہ ہتھیار خانہ جنگیوں کے لئے خریدے جاتے ہیں - انہی ہتھیاروں سے میں اپنے ہی گھر میں کمند ڈالتا ہوں - اپنی گاڑھی کمائی سے خریدی ہوئی بارود سے اپنا آشیانہ خود ہی جلاتا ہوں اور کہتا ہوں کے اس تخریب کاری کے پیچھے کوئی بیرونی طاقت ہے - اپنوں کو شکشت دے کر فتح کے جشن مناتا ہوں
غلامی کی بہوت سی قسمیں اور شکلیں ہوا کرتی ہیں - غلامی ک بد ترین صورت ہے گمراہی - آزاد ہونے کے بعد بھی صحیح راستہ نہ ملے اور اگر مل بھی جاۓ اور اس راستے پر چلنے کی توفیق نہ ہو' بصیرت نہ ہو' اخلاص نہ ہو تو یہ صورت حال غلامی سے بھی بدر جہا بد تر ہوتی ہے - ان تمام پستیوں کے باوجود بھی میں نے قسم کھائی ہے کے میں نا بدلوں گا -
آخر میں ہوں کون ؟
تیسری دنیا کا باشندہ
احمد عرفان